باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند میں شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئے دی گئی مہلت ختم ہوگئی ہے اور آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔باجوڑ ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق تحصیل ماموند میں شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جاے گا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماموند قبائل نے علاقے میں ہونے والے تمام امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے جس کے بعد ہی ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔تحصیل ماموند جانے والے تمام راستے بندکر دیئے گئے اور سیکیورٹی فورسز کے تازہ دم دستے علاقے میں پہنچ گئے ہیں ۔ آپریشن کے پیشِ نظر مقامی لوگ علاقے سے نقل مکانی کر کے لوئردیر کی طرف جارہے ہیں۔
دریں اثناء وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ وزیرستان کے عوام جلد آپریشن کا مطالبہ کر رہے ہیں. وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ اسلام آباد میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفتر پر خود کش حملہ کیس کے بڑے معاون ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی آفس پر حملہ آورکوگاڑی پر لانے والے شخص اور گاڑی کی شناخت ہو چکی ہے۔ ایک سوال پر رحمان ملک نے کہا کہ فاٹا اراکین پارلیمنٹ کے مطالبہ پر قبائلی علاقوں میں بھی گلگت بلتستان طرز پر خود مختاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سوات میں کامیاب آپریشن کے بعد وزیرستان کے عوام بھی آپریشن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ ایک دو روز میں کر لیا جائے گا.